
My First Blog Post


پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر میں آئیندہ ماہ نومبر میں تیس سال کے طویل عرصے کے بعد انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے اور امیدوار میدان میں اترنے کے لئے تیاریوں میں مصروف ہیں ان انتخابات کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں ذیادہ تر امیدوار وہ ہیں جن کی ذندگی میں یہ پہلا بلدیاتی انتخاب ہے ان انتخابات کے حوالے سے سوشل میڈیا پر نوجوانوں کے درمیان بحث مباحثہ اور تکرار بھی جاری ہے اور اس بحث کا نقطہ آغاز حکمران طبقات کی بددیانتی اور بدنیتی پر مبنی وہ پالیسیاں ہیں جن کی وجہ سے ریاست جموں کشمیر کے پاکستانی مقبوضہ حصے کے آذادی پسندوں اور عوامی حقوق کی جدوجہد کرنے والے لوگوں کو عوام سے دور رکھنا ہے اور ان کے راستے میں آئینی اور قانونی رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے جیسے پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر کے اسمبلی انتخابات میں امیدواروں سے جبری طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کی شرط عائد کر کے آذادی پسندوں کو جمہوری عمل سے دور رکھا گیا اسی طرح اس مرتبہ یہاں کے بلدیاتی انتخابات میں بھی اسی طرح کا حلف نامہ متعارف کروا کر یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہاں کے عوام پاکستان سے اپنی وفاداری کا حلف اپنی مرضی سے اٹھاتے ہیں اور وہ پاکستان کو ہی اپنی منزل سمجھتے ہیں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس حلف نامے پر دستخط کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا اور اس حلف نامے پر دستخط کر کے انتخابات کا حصہ بننا چاہئیے اور اپنے اس نقطہ نظر کو حکمت عملی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس طرح کی حکمت عملی سے کوئی مثبت نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں اگر ماضی کے تجربات کو دیکھا جائے تو اس طرح کی حکمت عملی سے جو حکمرانوں کی شرائط پر اختیار کی گئی مجموعی طور پر اس کے خودمختار جموں کشمیر کی تحریک پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور بہت بڑے قد کاٹھ کے سیاسی رہنما بھی اپنے آپ کو تحریک کے ساتھ منسلک نہ رکھ سکے بلکہ وہ بھی اسی نظام کا حصہ بن کر ماضی کا قصہ بن گئے ہیں اور یہ فہرست انتہائی طویل ہوتی جارہی ہے انتخابات کا حصہ بننے کی حکمت عملی اختیار کرنے والے احباب کے اپنے ماضی کے تجربات یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ اس خطے میں ایک ایسا نظام مسلط کردیا گیا ہے جس میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی بے جا مداخلت پاکستان کی سیاسی پارٹیوں ،مذہبی اور سماجی تنظیموں کی برانچوں کا قیام یہاں تک کے ان کے لئے ان کے عہدے داران کی پاکستان سے نامزدگی پاکستان کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی سیاسی معاملات میں وسیع مداخلت پاکستانی کی اسٹیبلشمنٹ کی اپنے من پسند سہولت کاروں مسلط کرنا اور اس بنیاد پر انتخابات میں اپنے مرضی کے نتائج حاصل کرنا یہ وہ ہتھکنڈے ہیں جن کو کسی عوامی بیداری کے نتیجے میں ابھرنے والی ایک مظبوط اور منظم تحریک کے بغیر جڑ سے نہیں اکھاڑا جاسکتا اور حکمران طبقات کی شرائط پر ان انتخابات کا حصہ بن کر دراصل حکمرانوں کی غلامی اور شرائط کو تسلیم کرنے اور اس نظام کو مذید آکسیجن فرام کرنے کے مترادف ہے
مختلف طرح کے امتیازی قوانین مسلط کر کے ایک طرف خودمختار جموں کشمیر کے حامیوں کے درمیان ایک خلیج بنا دی گئی اور دوسری طرف لوگوں الحاق پاکستان کا حامی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس جوش خروش سے ایک ایسے حلف نامے پر دستخط کر کے کاغذات جمع کئے جا رہے ہیں اسی شدت کے ساتھ حکمرانوں کے اس غیرجمہوری رویہ اور ان امتیازی قوانین پر سوال اٹھایا جاتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا خوش دلی سے اس کو تسلیم کر کے گلے لگا دیا گیا ہے۔
میں آج بھی اس بات پر مکمل یقین رکھتا ہوں کہ اسمبلیوں میں کئے جانے والے فیصلے عوام کی طاقت اور قوت سے تبدیل کئے جا سکتے ہیں اور ہر شہری کو اپنی مرضی سے اپنے نظریات کا اظہار کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔
انتخابات جمہوری عمل کا پہلا اور بنیادی جز ہیں اور ان کا انعقاد بھی جمہوری تقاضوں کے بنیادی اصول کی بنیاد پر ہونا ضروری ہے کوئی بھی جمہوریت پسند انتخابات کا مخالف نہیں ہے بلکہ انتخابات کے طریقہ کار پر اختلاف ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور اس حق کے لئے جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔
عمرحیات خان

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکن خرم پرویز کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں یوں تو پورا جموں کشمیر ہی ایک جیل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، ریاست جموں کشمیر کے عوام ایک قیدی جیسی ذندگی گزار رہے ہیں ایک طرف ان کاؤنٹر کے نام پر بے گناہ انسانوں کو شہید کیا جارہا اور دوسری طرف ایسے ریاستی جبر اور ہتھکنڈوں پر آواز بلند کرنے والوں کی آواز کو خاموش کرنے کے لئے پابند سلاسل کیا جاتا ہے یہ جبر ،بربریت اور فاشزم بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور سیکولر ازم کے منہ پر بھی ایک طمانچہ ہے ریاست جموں کشمیر کے عوام ایسے پڑوسیوں کے درمیان ذندگی بسر کر رہے جہاں کوئی انسانی اقدار نہیں بلکہ ریاست جموں کشمیر کے عوام اپنے پڑوسی ممالک کے جبر کے سائے تلے ذندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور دونوں ملکوں کے توسیع پسندانہ عزائم نے ریاست جموں کشمیر کی نسلوں کو تباہ اور برباد کر دیا ہے ہم خرم پرویز اور دیگر تمام سیاسی،سماجی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں ان تمام واقعات پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں،اداروں اور آذادی اور انسانی حقوق کی علمبردار اقوام کی خاموشی بھی قابل مذمت ہے عالمی برادری کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے بھارت کی حکومت کو ایسے گھناونے جرائم سے روکنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔
ہم تمام اسیران سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں اس موقع پر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی قیادت اور کارکنان گزشتہ دنوں شہید ہونے والے افراد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ان کے خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ ریاست جموں کشمیر سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلاء اور ایک باوقار مملکت کے قیام کی جدوجہد ہر حال میں جاری رہے گی جموں کشمیر میں اپنی جانوں کی قربانی دینے والوں کا انتقام غیر ملکی قبضے کا خاتمہ ہے اور اس مقصد کے لئے جدوجہد ہر حال میں جاری رہے گی۔
جاری کردہ:
عمرحیات خان ترجمان جموں کشمیر لبریشن فرنٹ(JKLF)

زمانہء طالبِ علمی میں اپنائے گئے نظریات سے شعوری و فکری وابستگی ہمیشہ رہی اور ایک طویل سفر جاری رکھا لیکن قریباً 15 سال قبل سفر بوجہ جاری نہ رہ سکا وجہ سفر کی تھکاوٹ نہیں بلکہ سفر میں تیزی اور رکاوٹوں کا خیال نہ رکھنا تھا، ایسے میں میرے سمیت بیشتر احباب کو سفر جاری رکھنے سے روک دیا گیا ان میں سے کچھ خاموشی اختیار کر گئے، ایک دو نے طویل خاموشی کو خیر آباد کہہ کہ سفر جاری رکھنے کی سعی کی، چند دنیا سے چلے گئے کچھ نے راستہ بدل کر مختلف سمت میں سفر جاری رکھا اور کچھ اب بھی چپ سادھے اپنے روز مرا کے معاملات میں لگے ہوئے ہیں-
میں اس دوران مختلف احباب سے رابطوں میں بھی رہا دوستوں سے ہمدردیاں بھی رہیں اور ابزرو بھی کرتا رہا لیکن سفر کو دوبار جاری رکھنے سے قاصر رہا، ہاں جب جب دوستوں نے کوئی مثبت قدم اٹھایا ان کی پشت پر کھڑنے رہنے کی کوشش کرتا رہا اور بساط بھر شرکت بھی یقینی بنائی،
بار ہا دوبارہ شروعات کی خواہش کی لیکن “بقول شاعر نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں” نہ وہ جزبہ تھا اور نہ دوستوں کی ہمنوائی، کہ ٹوٹے یا چھوڑے سفر کو اسی انداز میں جاری رکھا جا سکے جس انداز میں اس کو چھوڑا، گو کہ اس دوران کچھ احباب دوبارہ سے شروعات کے لیے کہتے رہے (ان میں چیئرمین جے کے ایل ایف سردار صغیر خانصاحب اور سردار انور صاحب، پیش پیش رہے) لیکن بوجہ ایسا کرنے سے پہلو تہی برتتا رہا خواہش رہی کہ کوئی دوست کسی بہتر سمت پر اگر گامزن ہو تو اس کے ہاتھ مضبوط کیے جائیں اس خواہش کے پیشِ نظر طویل مشاورت بھی رہی، چاہا کہ ماضی قریب کے دوست باہم مشاورت سے کسی بہتر راستے کا چناو کریں اور ہم بھی اپنا حصہ اس پلڑے میں ڈال دیں لیکن میں نے محسوس کیا کہ ہم بہت مخلص، نیک نیت ہونے کے باوجود ماضی سے اپنا دامن چھوڑانے کہ لیے تیار نہیں اور پھر ان راستوں پر چلنے کے ارادے کرتے ہیں جن کو پہلے پہل منزل کے برعکس کہتے چلے آتے رہے اور یہی ہماری ناکامیوں اور نامرادیوں کی وجہ ہے، ہم روز ٹانکے ادھڑتے ہیں اور پھر روز زخمِ جگر کو سیتے ہیں،
جیسا کے میں نے پہلے ذکر کیا کہ اس خاموشی کے دوران چند احباب از سرِ نو شروعات کا اسرار کرتے رہے لیکن میں روز ارادے بدلتا رہا، بقول شاعر کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے، لیکن شروعات تو کرنی تھیں کہ آپ کی ابتدائی محبت مرتے دم تک آپ کے دامن گیر رہتی ہے اور پھر محبت بھی اگر اپنی ہی عزت و وقار کی بحالی کی ہو تو اس کو مکمل نظر انداز کرنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے چونکہ ہر انسان دنیا میں عزت و وقار سے رہنے کو ترجیح دیتا آیا ہے،
میں اب بھی جب کھبی ان دوستوں سے ملتا ہوں جو ماضی میں اس محبت میں گرفتار رہے ہیں تو مجھے ان کے اندر بھی وہی تڑپ اور گرمجوشی محوسوس ہوتی ہے جس کی شدت سے وہ ساتھیوں کے جذبات نا صرف گرماتے تھے بلکہ جنون کی کیفیت طاری کرتے تھے لیکن وقت کے جبر کے ہاتھوں اور ہماری تنگ نظریوں کے سبب انھیں راستے بدلنے پڑے، مجھے اندازہ ہیکہ یہاں کچھ دوستوں کے زہین میں نقطہء اعتراض آتا ہوگا لیکن میں یہ زکر کرتا چلوں کے ہم نے ماضی میں جتنی کوششیں دوستوں سے جان چھوڑانے کی ہیں اس سے کم بلکہ بہت کم اگر دوستوں کو ساتھ ملائے یا چلائے رکھنے کی کرتے رہتے تو آج حالات مختلف ہی نہیں بلکہ بہت مختلف ہوتے
تو میں عرض کر رہا تھا کہ احباب دوبارہ شروعات کا اسرار کرتے رہے اور ان میں سب سے زیادہ اور تنظیموں طور پر جناب سردار صغیر خانصاحب خود اور ان کے دیگر دوستوں جنھوں نے مجھے ایک مرتبہ پھر rehabilitate کیا میری حوصلہ افزائی کی ان میں کچھ پسِ دیوار دوست بھی شامل رہے کہ مجھے یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ میں جناب سردار صغیر اور ان کی ٹیم کا حصہ بن سکا
جس طلباء تنظیم سے میں نے 1986-87 میں اپنی ریاست کی مکمل آزادی خود مختاری اور خوشحالی کی بلند و بالا ادرشوں کے ساتھ سیاست کا آغاز کیا تھا سردار صغیر خان اس کے سالار رہے اور پھر جب ان ہی دوستوں نے جن میں میرے مربی و مہربان سردار آفتاب صاحب مرحوم بھی شامل تھے نے 1993 میں جےکےایل ایف کو جائین کیا تو پیروی کرتے ہوئے 1998 میں ہم نے بھی انھیں جائین کیا یوں سردار صاحب سے ہماری شعوری وابستگی کا سفر 33′ 34 سال پر محیط ہے، گو کہ اس دوران ہمارے درمیان اچھی working relationship نہیں رہی اور کچھ عرصہ غلط فہمیاں بھی موجود رہیں اگرچہ ان غلط فہمیوں کی وجہ اس تنظیم کا ڈسپلن اور سیاسی ماحول تھا جس سے میں بھی اور سردار صاحب بھی باخوبی واقف تھے اور ہیں بھی، لیکن مجھے سردار صغیر صاحب کے نظریات اور ان نظریات کے حصول کے لیے ان کی انتھک محنت لگن اور کمٹمنٹ پر کبھی زرہ برابر شک نہیں رہا میں آج بھی بلا مبالغہ یہ محسوس کرتا ہونکہ ریاست کے جس حصے پر میں آباد ہوں وہاں خودمختار خوشحال اور غیر طبقاتی سماج کے قیام کے حصول کے لیے سب سے توانا، مضبوط اور مصلحت سے بالا آواز سردار صغیر کی ہی ہے اور میرے لیے یہ بات باعثِ مسرت وتسلی ہے کہ ان کی قیادت میں ان کی پوری ٹیم انتہائی کمیٹڈ، بلند حوصلہ اور واضع موقف اور بیانیے کی حامل ہے،
میں یہاں یہ لکھنا بھی مناسب سمجھتا ہونکہ موجودہ تنظیم اپنے آئین، منشور، اغراض ومقاصد اور واضع اور درست بیانیے کہ ساتھ ایک مکمل تنظیم ہے نا کہ کوئی گرو یا گروپ
جب میں نے از سرِ نو جےکےایل ایف کو جائین کیا تو میرے ذہین کے کسی گوشے میں بھی یہ بات موجود نا تھی کہ دوست مجھے کوئی زمہ داری دیں گے یا میں اس کے لیے آمادہ ہونگا چونکہ میرے لیے سب سے بڑا مسلہ تنظیم کو وقت دینا ہے اور شاید اس فیصلے میں تاخیر کی وجہ بھی یہی تھی لیکن جب میں کوٹلی کنونشن میں گیا اور محترم پرویز صاحب نے اس بابت میری رائے دریافت کی تو میں نے صاف انکار کر دیا لیکن ان کے زیادہ اسرار پر کہا کہ مجھے سنٹرل کمیٹی کا ممبر بنا دیں تاکہ مرکزی فیصلوں میں اپنی رائے دے سکا کروں، ابتداً میرے یہ بات مانی گئی لیکن کنونشن کے فوراً بعد سردار صغیر صاحب نے مجھے زمداریاں لینے کا کہا میں نے فوری انکار کیا لیکن پھر دوستوں نے گذشتہ مرکزی اجلاس میں مجبور کیا اور مجھے تنظیم کے سیاسی شعبے کی سربراہی تعویض کی میری اب بھی یہ رائے ہیکہ آفس بیرئیر ان احباب کو ہونا چاہیئے جو پوری توانائی کے ساتھ اپنا پورا وقت تنظیم کو دے سکیں، لیکن دوستوں نے میرے اوپر اعتماد کرتے ہوئے میری عزت افزائی کی ہے جس پر میں ان کا ممنون و مشکور ہوں اور تمام دوستوں کو یقین دلاتا ہونکہ ہم اپنے وطن ریاست جموں کشمیر کی آزادی،خودمختاری، خوشحالی اور غیر طبقاتی سماج کے قیام کے لیے مقدور بھر جدوجہد جاری رکھے رہیں گے اور اس راستے پر کسی بھی طرح کی مصلحت سے کام نہ لیں گے، میں تمام احباب خاصکر نوجوانوں سے گزارش کرونگا کہ وہ مصلحت سے بالا رہ کر اپنے وطن کی آزادی اور اس میں بسنے والے عوام کی عزتِ نفس کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں یقیناً آخری فتع حق و سچ کی ہو گی،
خیر اندیش سردار مشتاق حسین ایڈووکیٹ
سربراہ سیاسی شعبہ
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ


تحریر مشتاق خان ایڈووکیٹ
سربراہ سیاسی شعبہ
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ(JKLF )
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے نو منتخب سنئیر وائس چئیرمین محمد پرویز خان کی رہائش پر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چئیرمین سردار صغیرخان ایڈووکیٹ کی صدارت میں منعقد ہوا اجلاس میں 4 نومبر 2021 کو پاکستان کے زیرانتظام جموں کشمیر کے شہر کوٹلی میں منعقدہ کنونشن کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کی گئی اور کنونشن کی کامیابی پر پارٹی کے جملہ کارکنوں کو مبارکباد پیش کی گئی اور عوام کے بھرپور تعاون پر عوام کا شکریہ ادا کیا گیا اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کارکنوں کی شب و روز کی محنت کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور جدوجہد کا یہ سفر قومی جمہوری انقلاب تک جاری ہے گا اور عوام نے پارٹی سے جو امیدیں وابستہ کی ہیں عوام کو حکمران طبقات کے ظلم اور جبر کے سامنے اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی چئیرمین سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہمارے کارکن ہمارا سرمایہ ہے اور ہم فخر سے یہ بات کہتے ہیں کہ ہم ایک نظریاتی،انقلابی پارٹی کی تعمیر کے مختلف مراحل سے گزر رہے ہیں اور اس سفر میں جہاں بے پناہ مشکلات اور مسائل ہیں لیکن ساتھ میں قابل فخر بات یہ ہے کہ یہ ایک ایسا سفر ہے جو کروڑوں انسانوں کی امیدوں کا مرکز بھی ہے اور ہم نے اس کٹھن راستے کا انتخاب اپنی مرضی اور خواہش پر کیا ہے اس لئے یہ کٹھن حالات اور مشکلات ہمارے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
انھوں نے کہا کہ آج ہمیں بہت سے چلیجز کا سامنا ہے ایک طرف ہندوستان اور پاکستان مل کر جموں کشمیر کے عوام کو مستقل طور پر غلام بنانے اور جموں کشمیر کی سرزمین کو تقسیم کر کے اپنے اپنے ملکوں کا حصہ بنانے کی طرف بڑھ رہے ہیں تو دوسری طرف پاکستان کے زیرانتظام جموں کشمیر کے اس حصے کے حکمران یہاں کے عوام سے ان کے جینے کا حق بھی چھین رہے ہیں عوام مہنگائی،بے روزگاری سے تنگ آچکے ہیں اور فاقہ کشی پر مجبور ہیں صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں بنیادی انسانی ضروتیں ناپید ہیں حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور عیاشیوں کی وجہ سے ریاستی ڈھانچہ مکمل طور پر اپنی افادیت کھو چکا ہے آئے روز حادثات کی وجہ سے انسانی ذندگیوں کے چراغ بج رہے ہیں حکمران طبقات نے اپنی عیاشیوں کو جاری رکھنے کے لئے بیوروکریسی اور نام نہاد عدلیہ کی صورت میں ایک ایسا طبقہ عوام پر مسلط کیا ہوا ہے جو لاکھوں کی تنخواہوں اور مراعات کے باوجود عوام کے مسائل حل کرنے کے عوام کے مسائل میں اضافے کا باعث بن رہا ہے ایسے حالات میں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں لیکن ہم عوام کو حکمران طبقات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے اور عوام کو ان حکمرانوں کے خلاف ایک بھرپور تحریک کے لئے منظم کریں گے۔
اس مقصد کے لئے عوام کے اندر بہت جلد آگائی مہم کا آغاز کیا جائے گا اور پارٹی کی ممبرشپ بڑھانے کی مہم چلائی جائے گی جس کے لئے تاریخ اور طریقہ کار کا اعلان زونل کمیٹی کے اجلاس کے بعد کیا جائے گا اجلاس میں گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنائے جانے سمیت ریاست جموں کشمیر کی تقسیم کے کسی بھی فارمولے کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی بنا جائے گا۔
اجلاس میں غاصب ملکوں کی طرف سے کسی بھی طرح کی پراکسی وار کو ہر سطح اور ہر فورم پر بے نقاب کرتے ہوئے اس کے خلاف عوام کو منظم کیا جائے گا
اجلاس میں کنونشن کے انعقاد کے بعد سنٹرل کمیٹی کی صوابدید پر منتخب کئے جانے والے عہدیداران کا انتخاب بھی عمل میں لایا گیا جس کے مطابق وائس چئیرمین عثمان چغتائی(پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر )آفتاب احمد ایڈووکیٹ(یو کے یورپ زون)شمس کشمیری(گلف زون)
شرکاء اجلاس نے پارٹی کے سابق مرکز ترجمان عمرحیات خان کو پارٹیکے نظریات ،پالیسی کی درست طریقے پر وضاحت کے ساتھ پارٹی کی حکمت عملی کی ہر فورم پر دفاع کرنے پر ان کی خدمات پر ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کو پارٹی کا دوبارہ مرکزی ترجمان منتخب کیا گیا اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ پارٹی کے لئے اپنی خدمات جاری رکھیں گے سیکریٹری نشرو اشاعت احمد جان بٹ جبکہ سردار مشتاق خان ایڈووکیٹ کو سیاسی شعبہ کا سربراہ منتخب کیا گیا جبکہ گل زیب کو ممبر سنٹرل کمیٹی منتخب کیا گیا۔
اجلاس میں سنئیر وائس چیئرمین محمد پرویز خان، سیکریٹری جنرل راجہ مظہر اقبال ایڈووکیٹ، وائس چیئرمین عثمان خان چغتائی، فنانس سیکرٹری حمید خان، سربراہ سیاسی شعبہ مشتاق خان ایڈووکیٹ،احمد جان بٹ، زونل صدر انصار احمد خان، جنرل سیکرٹری راجہ غلام مجتبی، یو کے یورپ زون کے جنرل سیکریٹری ساجد رشید، سعودی عرب کے صدر عدنان سلیم ،گل زیب،عنصر محمود اور ایس ایل کے سیکریٹری جنرل سعد شوکت نے شرکت کی۔
جاری کردہ:
احمد جان بٹ
مرکزی سیکرٹری اطلاعات و نشرو اشاعت
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ(JKLF)

Umar Hayat Ex Spokesman JKLF












جموں کشمیر لبریشن فرنٹ اور جموں کشمیر سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ کا کامیاب کنونشن اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے کنونشن کا پروگرام انتہائی کامیاب رہا جس میں عوام اور نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی قیادت کا نئے سرے سے انتخاب کیا گیا کچھ عہدیداران کے عہدوں کو تبدیل کیا گیا اور کچھ نئے چہرے سامنے آئے آج سے کچھ سال پہلے اس طرح کے پروگرام اور پارٹی کو انتہائی نامساعد حالات میں اس سطح تک پہنچانے کی توقع نہیں کی جارہی تھی لیکن پارٹی کے ساتھ وابستہ کارکنوں نے اپنی کمٹمنٹ اور سیاسی اور نظریاتی پختگی سے یہ ثابت کیا ہے کہ حالات کتنے بھی مشکل کیوں نہ ہوں اگر جذبے سچے اور ارادے پختہ ہوں تو کہیں مشکل مراحل کو طہ کیا جا سکتا ہے گزشتہ دنوں ایک انتہائی سنجیدہ اور سنئیر سیاسی رہنما سردار مشتاق خان ایڈووکیٹ نے بھی پارٹی کی صفوں میں شامل ہوکر اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا جبکہ ایک اور سیاسی اور نظریاتی ساتھی وقار چوہدری کا متحرک ہونا بھی خوش آئند ہے ایسے لوگوں کا پالیسی بنانے میں انتہائی اہم کردار ہوگا ایک اور نوجوان سیاسی کارکن اور قانون کے شعبے سے تعلق رکھنے والے سرفراز مشرف ایڈووکیٹ کا زونل سطح پر انتخاب بھی بہترین فیصلہ ہے سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ کے چئیرمین نوید شوکت ایک سنجیدہ سیاسی کارکن ہیں اور ان کے اندر سیکھنے کی خواہش موجود ہے اور امید ہے کہ سنئیر احباب ایسے نوجوانوں کی درست سمت میں تربیت کا فریضہ انجام دیں گے میں سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ کو دوبارہ پارٹی کا چئیرمین منتخب ہونے اور ان کے ساتھ دیگر تمام عہدیداران زونل صدر انصار احمد خان اور ان کی زونل ٹیم اور نوید شوکت اور ان کے ساتھ منتخب ہونے والے تمام عہدیداران کو دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد دیتے ہوئے یہ امید کرتا ہوں کہ یہ سب احباب مل کر پارٹی کو حقیقی معنوں میں ایک عوامی مزاحمتی پارٹی بنانے کے اپنے سفر کے ساتھ ساتھ غیر ملکی قوتوں کےخلاف ایک مزاحمتی کردار ادا کریں گے میں ان تمام احباب کو اپنی طرف سے مکمل تعاون اور حمایت کا یقین دلاتا ہوں ۔
عمر حیات



جموں کشمیر لبریشن فرنٹ اور جموں کشمیر سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ کا کامیاب کنونشن اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے کنونشن کا پروگرام انتہائی کامیاب رہا جس میں عوام اور نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی قیادت کا نئے سرے سے انتخاب کیا گیا کچھ عہدیداران کے عہدوں کو تبدیل کیا گیا اور کچھ نئے چہرے سامنے آئے آج سے کچھ سال پہلے اس طرح کے پروگرام اور پارٹی کو انتہائی نامساعد حالات میں اس سطح تک پہنچانے کی توقع نہیں کی جارہی تھی لیکن پارٹی کے ساتھ وابستہ کارکنوں نے اپنی کمٹمنٹ اور سیاسی اور نظریاتی پختگی سے یہ ثابت کیا ہے کہ حالات کتنے بھی مشکل کیوں نہ ہوں اگر جذبے سچے اور ارادے پختہ ہوں تو کہیں مشکل مراحل کو طہ کیا جا سکتا ہے گزشتہ دنوں ایک انتہائی سنجیدہ اور سنئیر سیاسی رہنما سردار مشتاق خان ایڈووکیٹ نے بھی پارٹی کی صفوں میں شامل ہوکر اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا جبکہ ایک اور سیاسی اور نظریاتی ساتھی وقار چوہدری کا متحرک ہونا بھی خوش آئند ہے ایسے لوگوں کا پالیسی بنانے میں انتہائی اہم کردار ہوگا ایک اور نوجوان سیاسی کارکن اور قانون کے شعبے سے تعلق رکھنے والے سرفراز مشرف ایڈووکیٹ کا زونل سطح پر انتخاب بھی بہترین فیصلہ ہے سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ کے چئیرمین نوید شوکت ایک سنجیدہ سیاسی کارکن ہیں اور ان کے اندر سیکھنے کی خواہش موجود ہے اور امید ہے کہ سنئیر احباب ایسے نوجوانوں کی درست سمت میں تربیت کا فریضہ انجام دیں گے میں سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ کو دوبارہ پارٹی کا چئیرمین منتخب ہونے اور ان کے ساتھ دیگر تمام عہدیداران زونل صدر انصار احمد خان اور ان کی زونل ٹیم اور نوید شوکت اور ان کے ساتھ منتخب ہونے والے تمام عہدیداران کو دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد دیتے ہوئے یہ امید کرتا ہوں کہ یہ سب احباب مل کر پارٹی کو حقیقی معنوں میں ایک عوامی مزاحمتی پارٹی بنانے کے اپنے سفر کے ساتھ ساتھ غیر ملکی قوتوں کےخلاف ایک مزاحمتی کردار ادا کریں گے میں ان تمام احباب کو اپنی طرف سے مکمل تعاون اور حمایت کا یقین دلاتا ہوں ۔
عمر حیات



Renowned Kashmiri nationalist and very strong progressive voice of Pakistan Occupied Jammu Kashmir Sardar Mushtaq Khan Advocate has joined Jammu Kashmir Liberation Front(JKLF) with his fellow comrades.He officially announced to join the JKLF in a special ceremony that was held at his native town Qilan Tangi gala district Sudnoti POJK yesterday. JKLF chairman Sardar Muhammad Sageer Khan Advocate was the chief guest of the ceremony and was attending by dozens of party members and senior leaders of JKLF.He said that JKLF is very strong opponent of the division of State of Jammu Kashmir and its time to strengthen this platform and play our positive role.He pledged his support to party leadership and praise their tireless struggle for free and united Jammu Kashmir.
Chairman JKLF Sardar Muhammad Sageer Khan Advocate welcome his decision to joining the party and this decision will help to strengthen the paty and national movement of Jammu Kashmir as well. This special welcoming programme was attended and addressed by chief organiser Pervez Khan, Amir Kashmiri, Imtiaz Aslam, Nazar Kaleem,Khalid Mehmood and others.
Issued by.
Umar Hayat
Spokesman
Jammu Kashmir Liberation Front (JKLF).


